وقت-افسانہ

Urdu-afsanay

وہ دو ماہ بعد دفتری امور سے فارغ ہوکر اپنے شہر پہنچا تھا، سامان سے بھرے ہوئے خالی خالی گھر میں بستر پر کچھ گھنٹے اپنی تھکان اتارنے کے بعد کچن میں چائے بنانے چلا گیا۔ دوران ِ سفر اوراب تک اپنی دونوں بہنوں سے واٹس ایپ پر بات چیت جاری رہی جو اگلے ایک دو دن میں اپنے اس چھوٹے بھائی سے ملنے آ رہی تھیں۔ عمر نے فو ن پر اسے بتایا کہ وہ دفتر سے نکل چکا ہے اور چند منٹ میں گھر پہنچ جائے گا ، پھر وہ دونوں اکٹھے رات کھانا کھانے ہوٹل جائیں گے۔ عامر کانوں میں ہینڈز فری ٹھونسے عمر بھائی کا انتظار کرنے لگا مگر اس نے کوئی ٹریک نہیں چلایا تھا۔ وہ دیواروں ، چھتوں، کرسیوں اور الماریوں کو دیکھتا رہا اور اس کے ذہن میں ماضی کے رنگین دن گردش کرتے رہے۔اس کا بچپن، کالج کا زمانہ جب وہ امی سے روزانہ جیب خرچ لیتا ، جب وہ ابو کو یقین دلایا کرتا کہ جیسے تیسےوہ امتحانات پاس کر لے گا، وہ اس کی فکر نہ کِیا کریں۔ الماری کا وہ خانہ اب بھی اسے کسی خواب کی تکمیل کا جذبہ دے رہا تھا جس میں وہ ایک ایک روپیہ جمع کرتا تاکہ کرکٹ اور فٹ بال کا سامان خرید سکے، جب رقم متعلقہ حد تک پہنچنے لگتی تو ابو اس میں مزید پیسے شامل کر کے اس کا خواب پورا کردیتے۔ ہینڈز فری اگرچہ خاموش تھیں مگر وہ بہت کچھ سن رہا تھا، بہت سی یادیں اس کے ذہن کی سکرین پر روشن تھیں، بہت سی آہٹیں کانوں میں گونج رہی تھیں۔ گیٹ کھلنے کی آواز آئی، عمر نہایت گرمجوشی سے اپنے چھوٹے بھائی سے ملا اور دونوں رات گئے تک گپ شپ لگاتے رہے۔ صحن میں اگرچہ وہی دونوں تھے مگر ایسا معلوم ہوتا تھا کئی پرانے دوست مل بیٹھے ہوں۔ دفتری مصروفیات، فاصلے، سب رکاوٹیں گویا معدوم ہو چکی ہوں ، ایسا معلوم ھوتا تھا وہ ان چند دنوں کو بھرپور انداز میں گزارنے کا عزم رکھتے ھیں۔ عام طور پر جب والدین کی وفات ہوجاتی ہے تو بہنوں بھائیوں میں فاصلے بڑھ جاتے ہیں مگر ان کی محبت میں تو اضافہ ہوگیا تھا، شاید اس لیے کہ انہیں جن سے سائے کی توقعات تھیں وہ سلگتے ہوئے سورج تھے، جن چہروں میں انہیں بزرگی اور ہمدردی نظر آتی تھی، وہ چہرے پرفریب تھے۔کوئی ماسک تھے کہ اترتے چلے جاتے تھے۔ عامر نے گیٹ کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے بھائی سے کہا “آپ کو یاد ہے والدین کی وفات کے ایک ہفتے بعد جب ماموں کمرے میں شروع کرائے گئے فرنیچر کے کام کے لئے کیل کانٹوں سے لیس ڈبا موٹر سائیکل پر رکھے گلی تک آئے اور مجھے کہا کہ اسے گھر کے صحن تک پہنچا دو۔۔”
“اور تم نے گیٹ میں بائیک چھوڑ دی جس کی وجہ سے سارے کیل فرش پر بکھر گئے”
عمر نے بات کو بڑھایا۔
“ماموں نے جب یہ دیکھا تو زور دار تھپڑ میرے گال پر مارا۔ ۔۔۔۔۔ وہ تھپڑ ۔۔ پہلی بار امی ابو کے علاوہ کسی رشتہ دار نے مجھے ایسے تھپڑ مارا تھا۔ ”
اس کے لہجے میں غم اور غصہ بھر آیا۔
“ھاھا۔۔ ھاں اور تم نے ماموں کو بہت گالیاں دی تھیں۔ میں نے تم سے زبردستی معافی منگوائی تھی کہ وہ تمہارے بڑے ہیں۔۔۔۔ لیکن کچھ عرصے بعد مجھے لگا یہ لوگ اسی قابل تھے۔۔۔ مجھے بھی وقت نے بہت تھپڑ مارے، کبھی یہاں سے کبھی وہاں سے۔۔۔ میری آنکھیں کھول کے رکھ دیں ”
عمر کے انداز میں جوش تھا اور وہ بات کرتے ہوئے مسکرا بھی رہا تھا جیسے اسے یقین ھو کہ اس نے فرمانبرداراور ذہین طالب علموں کی طرح وقت سے سارے اسباق سیکھے ہیں اور انہیں اچھے سے یاد کیا ہے۔
اگلے روز بھائی نے دفتر سے چھٹی کی، دونوں بہنیں بھی اپنے اپنے گھروں سے آ گئیں اور دن بھر گھر ایسے آباد رہا جیسے وہ چار نہیں بلکہ چھ ہوں۔ ان کی گیدرنگ میں امی ابو دونوں موجود تھے کبھی بڑے بھائی کے روپ میں کبھی چھوٹی بہن کی شکل میں۔ رات کے دو بجے گھر میں فنگر چپس بن رہے تھے جبکہ اتنا بڑا شہر بھی اپنی رنگا رنگی تاریکی کے سپرد کر چکا تھا۔ شائستہ نے آلو کاٹتے ہوئے عامر سے کہا : “تمہیں وہ بیری کا درخت یاد ہے، وہ گھنا بڑا سا درخت جو اُس کھڑکی کے ساتھ تھا؟”
“ہاں ہاں وہ ٹھیک کیا کٹوا دیا۔ جب امی ابو فوت ہوئے تھے توچند ہفتوں بعد رات کو عورتوں کے چیخنے کی آوازیں آتیں” عامر نے تجسس میں جواب دیا
“ہاں اور ھم چاروں رات کو جاگ کر کلمے پڑھنے لگتے۔ ڈر کے مارے نیند نہیں آتی تھی۔ کئی دن امام ِ مسجد کو تلاوت کے لئے گھر بلاتے رھے” دوسری بہن نے اضافہ کیا۔
“لیکن بھئی تم سب بدھو تھے۔ ایک رات میں تسبیح لے کر اللہ اللہ پڑھتا آخر کار صحن میں نکل ہی پڑا تھا اور سامنے وہ بیر کے درخت صاحب! اس کی لمبی تڑنگی شاخیں ہوا سے شاں شاں کر رہی تھیں” عمر نے یوں جواب دیا جیسے اس نے بہت بڑا مسئلہ حل کیا ھو۔
“جادو وادو نہیں تھا۔۔۔۔ پر۔۔۔ لیکن ایک مرتبہ کئی کئی دن تک سانپ بھی آتے رہے تھے۔ یاد ہے نا! ھم مار دیتے تھے وہ پھر آجاتے تھے”
شائستہ نے ایک اور گھمبیرتا سامنے رکھی۔
“یار مانو نہ مانو۔ جادو تو تھا۔ کچھ تو ایسا تھا جس نے آکاس بیل کی طرح ہمارے ہرے بھرے گھر کو کھا لیا تھا۔ ” اس نے خود ہی اپنی گھمبیرتا کا جواب دیا۔
وہ اداسی کی کیفیت میں لب بستہ ہو چکے تھے کہ عامر نے اپنے فون سے ایک مزاحیہ سٹیٹس پڑھ کر سب کو ہنسا دیا۔ فنگر چپس کھانے کے دوران بڑے بھائی صاحب ہمیشہ کی طرح اپنی شادی کا رونا رونے لگے۔ “دونوں بہنوں کی شادیاں کروا دیں۔۔ میری بھی فکر کرو، کسی کو پرواہ ہے میری؟”
کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ والدین کی وفات کے بات انہیں نت نئے تجربات کرنے پڑیں گے۔ بھائی کو اپنی بہنوں کے لئے رشتوں کی تلاش کرنا پڑے گی اورخود سے شادیوں کے انتظامات کرنا پڑیں گے۔ وہ اب بھی بھائی کے رشتہ کے لئے رشتہ والوں کے گھر جانے سے پہلے ریہرسل کرتے۔ مختلف کردار نبھاتے اور اپنے کانفیڈنس کو برقرار رکھنے کی کوشش کرے۔ اس دوران وہ لڑتے جھگڑتے اور بہت ہنستے۔ انہوں نے کتنی باتیں سنیں، کتنے پیچیدہ مسائل سے ہمکنار ھوئے مگر مسائل آہستہ آہستہ حل ہوتے چلے گئے۔ اَن سلجھے مسئلوں کا ایک طویل سلسلہ اب بھی ان کے سامنے کسی ایسے راستے کی مانند پھیلا تھا جس راستے پر کیل کانٹوں کا سامان گِر گیا ہو۔ مگر وہ اکیلے نہ تھے وہ ایک دوسرے کے لئے سایہ تھے، ایک دوسرے کے دست و بازو تھے۔ اور یہ دست و بازو اب وقت کے تھپڑوں کو روک سکنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ایک ھفتے کی سرکاری چھٹی گزارنے کے بعد عامر شہر سے واپس جانے سے پہلے قبرستان کی طرف گیا جہاں اس کی ملاقات شاہ رخ سے ہوئی جس نے فرسٹ ایئر کلیئر کر لی تھی۔
“شاہ رخ۔ بھئی تُو قبرستان کس چکر میں آیا؟” عامر نے سوال داغا
“عامر بھائی! ابو کی قبر پر” اس کے لہجے میں افسردگی تھی
“ہممم۔ مجھے پتہ چلا تھا دو ہفتے پہلے۔ لیکن میں شدید دفتری مصروفیت کی وجہ سے چھٹی نہ لے سکا۔ بہت زیادہ افسوس ہے” عامر نے ہمدردانہ لہجے میں کہا۔
“لیکن بھائی آپ کس لیے آئے”
“میں امی ابو کی قبر پر آیا” عامر نے فوراََ جواب دیا۔
“بھائی! آپ کو ہمیشہ مسکراتے دیکھا ہے۔ آپ کو دیکھ کر پتہ نہیں چلتا کہ آپ کے والدین فوت ہوگئے ہیں”
عامر مسکرانے لگا ، پھر پوچھنے لگا: “یہ بتا کس کس نے ہاتھ رکھا؟”
“عامر بھائی سچ بتائوں تو رشتہ دار تو سارے ہی مر گئے ھمارے لیے۔ میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ ایک دکان پر کام کرتا ہوں اور بہن گھروں میں کام کرتی ھیں۔ باقی دو بہنیں ابھی کافی چھوٹی ھیں۔ امی کی طبیعت اب پہلے جیسی نہیں رھی ”
اس کی لہجے میں تکلیف تھی۔
“سارے ھی مر گئے۔۔۔۔۔ بہت سمجھدار ھے تُو۔جلدی سیکھ رہا ھے۔ وقت تجھےسکھا رھا ھے ”
عامر نے اس کے کندھے کو تھپتھپاتے ہوئے کہا اور چل دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں