ایٹمی پاور کا اصل ہیرو عمران خان تھا خفیہ اداروں کے نئے دعویٰ نے کھلبلی مچادی

ایٹمی پاور کا اصل ہیرو عمران خان تھا پر اسے جان کا خطرہ لاحق ہونے کی وجہ سے سامنے نہیں لایا گیا۔

کیا آپ جانتے ہیں 1992 کا کرکٹ ورلڈ کپ پاکستان کے لئے جیتنا زندگی اور موت کا مسئلہ تھا۔ امریکہ نے پاکستان پر ایٹمی پرزہ جات خریدنے پر پابندی لگائی ہوئی تھی۔ دنیا کی ہر ایٹمی طاقت پاکستان کو امریکہ کے ڈر سے ایٹمی ری ایکٹر کا پیچ دینے سے بھی انکاری تھی۔ ایسے میں قوم کے ایک بیٹے نے ایٹم بمب کا فارمولہ حاصل کر لیا۔ لیکن کسی غدار کی وجہ سے خبر لیک ہو گئی اور سی آئی اے، موساد، را، کے جی بی، این ڈی ایس نے دنیا کے ہر ایئرپورٹ، ڈرائی پورٹ، سی پورٹ، بس اسٹاپ، رکشہ اسٹاپ اور چنگچی اسٹاپ کو گھیرے میں لے کر سخت چیکنگ شروع کر دی۔ قوم کا بیٹا اپنی جان پر کھیل کر فارمولہ آسٹریلیا لے جانے میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے وہ فارمولہ 1992 کے ورلڈ کپ کی ٹرافی پر کوڈ ورڈز میں درج کر دیا۔ ساری دنیا اسے ورلڈ کپ کا ڈیزائن سمجھ کر واہ واہ کر رہی تھی لیکن ایک مار خور نے ساری دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک کر وطن عزیز کو ایٹمی طاقت بنانے کا عزم کر لیا تھا۔ اب مسئلہ ورلڈ کپ کو پاکستان لانے کا تھا لیکن پاکستان کرکٹ ٹیم کی حالت خراب تھی اور ورلڈ کپ جیتنا ناممکن دکھائی دے رہا تھا۔ دوسری طرف ڈاکٹر قدیر سخت پریشان تھے اگر فارمولہ بروقت پاکستان نہ پہنچتا تو یورینیم کو اُلی لگنے کا خطرہ تھا۔ لیکن ایک بہادر جنرل (اس وقت میجر) نے عمران خان سے خفیہ ملاقات کی اور تمام صورتحال سے آگاہ کیا کہ وطن عزیز کتنی مشکلات سے دوچار ہے۔ عمران خان نے میجر سے وعدہ کیا کہ وہ ہر قیمت پر ورلڈ کپ پاکستان لے کر آئیں گے۔ پھر عمران خان نے ساری ٹیم کو اکٹھا کر کے ایک زبردست تقریر کی اور ٹیم میں ایک جنون پیدا کر دیا۔ تقریر سننے کے بعد ہر کھلاڑی نے خود کو ٹائیگر سمجھنا شروع کر دیا اب پاکستانی ٹیم کو ورلڈ کپ جیتنے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی تھی۔ پھر عمران خان ورلڈ کپ جیت کر پاکستان لے آئے اور سی آئی اے، موساد، را، این ڈی ایس اور دنیا بھر کے جاسوسی ادارے منہ دیکھتے رہ گئے۔ آپ کو میری باتیں گپ لگ رہی ہیں؟ تو بانوے کے ورلڈ کپ کی ٹرافی لے کر اسے میز پر رکھیں، اب چار ٹارچ لیں مختلف رنگوں کی، ایک سبز، ایک سفید، ایک سرخ اور ایک پیلی۔ یہ ٹارچ روشن کر کے ٹرافی کے چاروں طرف اس طرح رکھیں کہ ان کی روشنیاں ایک دوسرے سے نہ ٹکرائیں۔ اب آپ سر کے بل کھڑے ہو کر اس شیشے کی مرتبان نُما ٹرافی کے پیندے میں غور سے دیکھیں آپ کو ایٹم بمب کا فارمولا اور ڈیزائن نظر آ جائے گا۔ اب آپ سوال کریں گے کہ اس کارنامے کا کریڈٹ اصل ہیرو کو کیوں نہیں دیا گیا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ملکی سلامتی کے اداروں نے اس عظیم کارنامے کی انجام دہی کے دوران کپتان کی صلاحیتیں دیکھ کر اسے مستقبل میں وزیر اعظم بنانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ دنیا کپتان کو کرکٹر سمجھتی تھی اگر انہیں معلوم ہو جاتا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا اصل ہیرو کپتان ہے تو اس کی زندگی کو خطرہ بھی لاحق ہو سکتا تھا۔
ٹائیگرز پاکستان کی ایٹمی قوت کا اصل ہیرو عمران خان ہے، نواز شریف وغیرہ کو عمران خان کی جان بچانے کے لئے فرنٹ مین کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں