یہ فلم لازمی دیکھیں

ھیگل نے کہا تھا دنیا میں جتنے بھی بڑے واقعات ہوئے ہیں وہ دہرائے جاتے ہیں۔ اسی بات کو کارل مارکس نے کچھ ایسے بیان کیا کہ پہلی بار تو وہ ایک سانحہ تصور کیا جاتا ہے لیکن دوسری بار وہ بس نقل ہوتی ہے، ایک چھاپ۔

اگر ہم آمریت اور بادشاہت کی مثال لے لیں تو رومن امپائر میں رومیوں نے اپنی رعایا کے لئے کھیل کود کو بنیاد بنا کر انہیں مصروف رکھا تاکہ انکی باقی مسائل سے توجہ ہٹائی جا سکے۔ کچھ دوسری آمریت میں الگ انداز اپنایا جاتا ہے جیسے علم و تحقیق کو کنٹرول میں کرنا اب وہ کیسے کرتے تھے یہ اہم سوال ہے۔ اس کے لئے وہ شخصی آزادی کو صلب کرنا، ان کی تعلیم کو محدود کرنا، ان کے کلچرز کو اور انفارمیشن کو سینسر کرنا اور یہ سب وہ اپنے اقتدار کو قائم اور رعایا کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے کرتے ہیں۔

جب سے دنیا وجود میں آئی ہے اور اب تک انسان ایک دائرے میں گھوم رہا ہے، جو اس کا کمفرٹ زون ہوتا ہے اور جیسے ہی وہ اس دائرے سے نکلتا ہے وہ دنیا کے لئے کچھ ایسا کر گزرتا ہے جس کے بعد دنیا اس کو یاد کرتی ہے۔ جب چیزوں کو محدود کیا جائے گا تو وہ روٹین کی شکل اختیار کردیتی ہیں پھر وہاں انسان اپنی ارتقاء کو پیچھے چھوڑ کر جمود کا شکار ہوجاتا ہے۔

پہلی کہانی:

ایسی ہی کہانی ہے ایک تاریخ کے پروفیسر کی جس کا نام ہے ایڈم بیل، اپنی روٹین لائف میں مگن ہوتا ہے جہاں اس کی زندگی میں صبح کالج، پھر گھر، اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ کچھ لمحات اور اس کے بعد وہی چیزیں دوسرے دن جاری رہتی ہیں۔ اس کی زندگی میں کچھ نیا پن نہیں ہوتا اور وہیں اسے ایک مووی ریکمنڈیشن ملتی ہے۔

دوسری کہانی:

کہانی ہے انتھونی کلیئر کی جو موویز میں چھوٹے موٹے رول کرتا ہے اور اپنی 6 ماہ کی حاملہ بیوی کے ساتھ رہتا ہے۔ اس کی زندگی میں بھی کچھ نیا پن نہیں ہوتا تو اسے ایک انڈر گراؤنڈ کلب کی انٹری کی چابی ملتی ہے۔

اصل کہانی:

حیرت انگیز چیز اس وقت سامنے آتی ہے جب ایڈم اس مووی میں اپنے آپکو دیکھتا ہے، اسے ایسے لگتا ہے جیسے وہ اس کا سایہ ہو، ڈٹو کاپی، یہاں تک کے بولنے کا انداز اور آواز بھی وہی۔ ایڈم کو یہی بات پریشان کرتی ہے تو اپنی تحقیق شروع کرتا ہے جس کے بعد اسے معلوم ہوتا ہے اس مووی میں کام کرنے والا وہ خود نہیں بلکہ اصل میں انتھونی کلیئر ہے تو وہ اس سے ملنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہیں سے دونوں کی زندگی میں کچھ نیا آجاتا ہے جس سے وہ خوش بھی ہوتے ہیں اور خوفزدہ بھی۔

ہوزے ساراماگو کے ناول The Double پہ بنائی گئی اس مووی جس کا نام Enemy ہے میں مرکزی کردار Jake Gyllenhaal نے نبھایا ہے, مووی کے مختصر ڈائیلاگز اور عجب خاموشی میں چھپی کہانی ایک الجھن کا شکار ہوتی ہے جو آخر تک سلجھ نہیں پاتی اور مووی اختتام کو پہنچتی ہے۔ لیکن اگر مووی کے شروعات میں اور پوری مووی میں نظر آئے اسپائیڈر کی تھیوری کو ذہن نشین کیا جائے تو مووی کافی حد تک سمجھی جا سکتی ہے۔

احسن دانش (از دانست)

اپنا تبصرہ بھیجیں