دل لگی فلم ریویو

چھوٹی سکرین سے غائب ھوئے ھمایوں سعید کو کافی عرصہ ھو چکا تھا. “جوانی پھر نہیں آنی” جیسی کامیاب فلم ان کے حصے میں آ چکی تھی. اے آر وائے پر نشر ھونے والے ڈرامہ ” دل لگی” میں ھمایوں سعید مہوش حیات کے ساتھ نظر آئے. دونوں کی کیمسٹری نہایت زبردست تھی. جوانی پھر نہیں آنی میں ھمایوں سعید بڑی عمر کے لگ رہے تھے لیکن سیریل میں نہایت ” فریش لک” کے ساتھ عمدہ پرفارمنس دی. فائزہ افتخار نے بے حد منفرد سکرپٹ تحریر کیا. مہوش حیات کے کردار “انمول” کو جس طرح سے لکھا گیا ھماری ڈرامہ انڈسٹری میں اس سے پہلے ایسا کردار نہیں دیکھا گیا.. رونی صورت اور منہ بسورتی ھوئی مظلوم اور سہمی ھوئی ھیروئین جو ھمارے ٹی وی سیریلز کا خاصا ھے اس کے برعکس نہایت مضبوط اور بہادر لڑکی کی کہانی جو اپنی ماں اور بہن کے ساتھ رہتی ھے اور گھریلو ذمہ داریاں اٹھا رہی ھے. ھمایوں سعید کا کردار “موحد” ایک امیر کاروباری آدمی کا ھے جو انمول کی ” انمول” حرکات اور خوبصورتی پر دل ہار بیٹھتا ھے. انمول کے نزدیک موحد ایک قابل نفرت بدمعاش اور غنڈہ ھے جو اس کو صرف تنگ کر رہا ھے. جب انمول سمجھتی ھے کہ موحد اس کی شادی کہیں نہیں ھونے دے گا تو وہ مولوی کو ساتھ لئے موحد کے گھر آ جاتی ھے اور اس سے نکاح کر لیتی ھے تاکہ موحد کے قریب رہ کر اس کی زندگی جہنم بنا سکے…. موحد کی ماں “زلیخا” کا کردار صبا حمید نے نبھایا جو انمول کے کردار کی طرح ایک اور مضبوط کردار ھے. عظمی حسن, اسما عباس اور عمران اشرف سب نے اپنے کرداروں کے ساتھ خوب انصاف کیا. ندیم بیگ نے خوب ہدایت کاری کی. کسی کسی جگہ ڈرامے میں فلمی ٹچ بھی محسوس ھوا. سہون شریف میں فلمائے گئے سین نہایت عمدہ تھے. فائزہ افتخار نے اگر لکھنے میں کوئی گنجائش نہیں چھوڑی تو ندیم بیگ نے بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی. مہوش حیات نے ثابت کیا کہ وہ ایک باصلاحیت اداکارہ ھیں. ٹی وی ھو یا فلم دونوں سکرینز پر وہ کمال دکھا سکتی ھیں. فائزہ افتخار کے قلم نے کسی جگہ موتی کئے ھوئے رومانوی مکالمے تحریر کئے تو کسی جگہ نفرت کا اظہار نہایت شدید اور زبردست لکھا. فائزہ افتخار کی تحریر میں مزاح کا عنصر نہ ھو یہ کیسے ھو سکتا ھے. عمران اشرف نے دیکھنے والوں کو خوب محظوظ کیا. تمام اقساط یو ٹیوب پے موجود ھیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں