53

بچی بڑی ٹائٹ ہے – آنکھیں کھول دینے والی تحریر –

بچی بڑی ٹیٹ ہے پیرا۔۔۔۔۔۔!
مرید : السلام و علیکم پیر جی: یہ لاہور کی ایک لڑکی کی پروفائل اور نمبر ہے، آپ چیک کر لو آپ کے مطلب کی ہے یا نہیں، شاید ایک آدھی رات سکون مل جاے۔

میں بہت انہماک سے اپنے کام میں غرق تھا کہ انباکس ٹاپ اپ ہوا، اور اک مرید کی طرف سے یہ میسجز موصول ہوئے۔ میں کام چھوڑ کے کتنے ہی منٹ یہ پیغامات بار بار پڑھنے میں مگن ہوگیا۔ مجھے کچھ سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ میں انکا کیا جواب دوں۔ بس میں اتنا ہی کہہ سکا کہ ۔۔۔۔ میں کسی کو اپروچ نہیں کرتا۔

یہ اک مردانہ معاشرے کی روز مرہ زندگی کی روٹین ہے۔ اگر ہم کسی لڑکی کو جانتے ہیں یا اس کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں لیکن اس کے شہر تک رسائی مشکل ہے تو ہم بڑی آسانی سے اسکی معلومات ، نام، تصاویر اور موبائل نمبر کسی ایسے شخص کو دے دیتے ہیں جو کہ اس لڑکی کے قریب ہی رہائش پزیر ہو۔ یہ کہہ کر کہ میں تو آ نہیں پاونگا آپ اسے استعمال کر لیں۔۔۔۔۔۔ استعمال۔۔۔۔!

عورت ہمارے لئے ایک استعمال کی چیز ہے۔ دسترس میں ہو تو جان من۔ دسترس میں نہ ہو تو اک چیز جو کسی بھی شخص کی ملکیت میں دی جا سکتی ہے۔ جسے وہ جب چاہے، جیسے چاہے، جتنا چاہے استعمال کرے اور اس کے بعد کسی ایسے شخص کو سونپ دے جو اس کو اچھی طرح استعمال کرتے ہوئے کسی اور کے انباکس میں پیش کر سکے۔۔۔۔۔!

ہمیں ایسے رویوں پر شرمندگی نہیں ہوتی۔ بالکل بھی نہیں ہوتی کیونکہ ہم نے ہمیشہ یہی دیکھا، سنا، سیکھا اور کیا ہے۔ بس فرق صرف اتنا ہے کہ جو بھی لڑکی ہمارے تصرف میں ہوتے ہوئے اک کاغذ کے ٹکڑے سے منسوب ہو اسے ہم کسی اور کو پیش نہیں کرتے کیونکہ وہ ہماری عزت اور غیرت ہوتی ہے اور اسے بیوی کہا جاتا ہے۔ جبکہ دوسری لڑکی جس سے ہماراکوئی خونی یا کاغذی رشتہ نہ ہو وہ صرف اور صرف تصرف کی چیز۔ گرل فرینڈ یا رومانوی تعلق رکھنے والی تو دو نمبر ہوتی ہے۔

ہم کسی بھی دوست کو اس لڑکی کا نام۔ آئی ڈی، تصاویر اور نمبر اس یقین کے ساتھ پیش کر دیتے ہیں کہ آپ فقط چند منٹ نکال کر اسکو اپروچ کیجئے۔یقین کیجئے یہ لڑکی اتنی ترسی ہوئی ہے۔ مردانگی کی اتنی پیاسی ہے کہ یہ تمام اصول، شرم و حیا، مان مریادا اور اپنی کمٹمنٹس توڑتی ہوئی آن واحد میں آپ کی بانہوں میں بے لباس ہونے کے لئے دوڑی چلی آئے گی۔

میں معاشرے کو شرم و حیا سکھانے نہیں آیا۔ نہ ہی میں نے بھاشن دینے کے لئے اوتار لیا ہے۔ میری فطرت میں ننگا پن ہے۔ میری سوچ عریانی سے لبریز ہوتی ہے، میرے افکار برہنگی کا پرتو ہیں لیکن میرے صرف الفاظ برہنہ ہوتے ہیں۔ میں اپنی ذات سے منسوب ہر عورت کو لباس پہنے دیکھنا چاہتا ہوں، پھر چاہے وہ کپڑوں کا ہو یا میری بانہوں کا کہ جن میں آکر دنیا کی کوئی بھی آنکھ انکو دیکھ برہنہ نہ دیکھ سکے۔

دنیا میں ہر انسان چاہے مرد ہو یا عورت۔ رومانوی جذبات رکھتا ہے۔ تعلقات رکھتا ہے، کسی نہ کسی سے انس، نسبت اور خلوت کے لمحات رکھتا ہے لیکن وہ خلوتیں صرف ایک کے لئے ہوتی ہیں۔ سر بازار بے لباس ہونے کے لئے ہرگزنہیں۔ میں نہیں کہتا کہ آپ جنس مخالف سے تعلقات استوار نہ کریں۔ کریں۔ ضرور کریں لیکن اس کو عزت دے کر۔ میں نہیں کہتا کہ آپ کسی سے فلرٹ نہ کریں۔ بالکل کریں لیکن اس کو اس دنیا کا سب سے اسپیشل انسان مان کر، عزت مان کر، غرور مان کر، میں نہیں کہتا کہ آپ کسی کو برہنہ مت کریں۔ کریں۔ ضرور کریں لیکن صرف اپنی ذات کی حد تک۔ اسےاتنا برہنہ کریں کہ دنیا کے تمام لباس مل کر بھی اسکو اس کی اس بے لباسی کو برہنگی نہ کہہ سکیں۔

ہم کتنی آسانی سے کسی بھی عورت کی شناخت اور اس کی پرائیویسی صرف یہ ثابت کرنے کے لئے روند ڈالتے ہیں کہ ہم لڑکیوں کے بارے میں زیادہ جانتے ہیں۔ ہمارے پاس زیادہ لڑکیوں کے نمبرز ہیں یا ہم لڑکی اپنے دوستوں پر قربان کر رہے ہیں۔ معذرت کے ساتھ کیا ہم وہ لڑکیاں بھی دوستوں پر نچھاور کر سکتے ہیں جن سے ہمارے خون یا کاغذ کے رشتے ہوں؟ لڑکیاں پھنسائیں۔ ضرور پھنسائیں مگر انکو عزت دے کر۔ عزت لوٹیں اور صرف خود لوٹیں۔ دوستوں کو پیش کرنے پر آپ مرد تو رہ نہیں پائیں گے کیونکہ پیش کرنے والے کو دلال کہتے ہیں۔ کسی کی مرضی اور اجازت کے بنا کسی کی معلومات، تصاویر اور موبائل نمبر کسی اور کہ دینا قانونی طور پر تو انتہائی سنگین جرم توہے ہی لیکن ساتھ میں یہ اخلاقی پستی کی انتہا بھی ہے۔

ہو سکتا ہے لڑکی واقعی شوقین ہو، ہم مردوں کی طرح وہ بھی ورائٹی پسند ہو ، اسے بھی نمبر گیم پسند ہو کہ میری اتنے لڑکوں کے ساتھ دوستی ہے لیکن اس کے باوجود کیا یہ مناسب ہے کہ اس کی معلومات ہر کسی کو سونپی جائیں؟ اجی جانور تک اپنی پسند اور مرضی کا ساتھی چنتے ہیں تو انسان سے یہ حق آپ کیسے چھین سکتے ہیں ؟ آپ کو کوئی بھی لڑکی پسند ہے تو اس سے بات کریں، اس کی مکمل رضامندی سے اس سے ملیں، وہ آپ کے سامنے مکمل بے لباس ہوگی، تصاویر اور معلومات سے بچے پیدا نہیں ہوتے۔ انسان کو جیتنا سیکھیں، معلومات تو کتوں کے پاس انسانوں سے زیادہ ہوتی ہیں۔

میں کبھی کسی لڑکی کو اپروچ نہیں کرتا۔ انکو تو بالکل بھی نہیں جنکی تمام معلومات میری دسترس میں ہوں، لڑکیاں مجھ سے رابطہ کرتی ہیں اور میں بہت عزت و احترام سے بات کرتے ہوئے معذرت کر لیتا ہوں کیونکہ جو نہ مل سکے وہی بے وفا۔۔۔۔۔ پھر بھی میں انکو فاحشہ ، طوائف، چالو یا ترسی ہوئی نہیں ٰکہتا بلکہ جس سے مل نہ سکوں بہن کہہ دیتا ہوں۔۔۔۔ لول۔ بھلے یہ طنز ہوتا ہے لیکن کم سے کم کسی کی دل آزاری تو نہیں ہوتی۔۔۔

خدارا۔ میری اور آپکی بہن بیٹیوں کے پاس بھی موبائل ہیں، وہ بھی تصاویر بناتی ہیں، موبائل نمبر رکھتی ہیں اور سوشل میڈیا بھی چلاتی ہیں۔ مکافات عمل میں کہیں کوئی دوست ہم کو ہماری ہی بہن یا بیٹی کی برہنہ تصاویر، نمبر یا معلومات یہ کہہ کر نے بھیج دے کہ پیرا ٹرائی کر بڑی گرم چیز ہے، ایک دو سے ٹھنڈی نہیں ہوتی ، ہو سکتا ہے تیرے لئے چند راتوں کی لذت کا سامان بنے۔۔۔۔۔۔!

عورت کو حاصل کرنا ہے تو اسے جیت کر کریں، اعتماد جیت کر، بھروسہ جیت کر، عزت دے کر اور صرف اپنے لئے جیتیں ، نہ کہ انباکس انباکس میں گھما کر اپنی مردانگی کے مینار کھڑے کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وما علینا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں