بچوں سے جنسی تشدد پرمبنی فلم کا ریویو

آج کے اس ظالم دور میں بچوں سے جنسی تشدد انتہا پر ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے ملک میں یہ ایک ناسور کی طرح پھیل رہا ہے۔ اس فلم میں بچپن میں پیش آنے والا واقعہ، اور صدمے کی وجہ سے دماغ کے تباہ کن اثرات کو پیش کیا گیا ہے۔جو بالآخر ایک بالغ کی زندگی میں پھیلتا ہے، زندگی کی ہر پہلو کو تباہ کر دیتا ہے.
Movie: Gerald’s Game( based on the novel of Stephen King 1992)
Cast: Carla Gugino, Bruce Greenwood
Year: 2017
Genre : Thriller/ Horror 
1hr 43min
Imdb 6.6/10
RT 90%

ایک حقیقی فنکارانہ شاہکارجو اس سوچ کو ثابت کرتی ہے جب دماغ، ڈیمنشیا اور انسانی جذبات کے مختلف خطرناک مراحل کا اظہار کرنے کے لئے آتا ہے، ان کے اختتام اور انفرادی طور پر انماد، انکار، مہذب قسمت کی قبولیت، خاص طور پر جب موت دروازے پر دستک دے۔ اس فلم میں دکھایا گیا ہے۔

نہایت عمدہ فلم۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ ناظرین کو یہ پسند نہ آئے لیکن اس فلم میں نہایت اہم مسئلہ کو اجاگر کیا گیا ہے۔

اللّہ نے انسان کو احسن ِتقویم پر تخلیق کیا ۔اسےعلم وشعور عطا کر کےاسے دنیا کی تمام مخلوقات پر فوقیت دی،مگر
سا تھ ہی کچھ جبلی کمزوریاں بھی رکھ دیں۔
اب اللّہ چاہتاہے کہ انسان ان کمزوریوں پر غالب آکر اسکا نائب ہونے کا حق ادا کرے مگر افسوس ،کبھی کبھی انسان جبلی کمزوریوں پر قابو نہیں کر پاتا اور جانوروں کی سی خصلت اختیائر کرتا ہے ۔ کبھی تو جانوروں سے بھی بد تر ہو کر اسفلا سا فلین کے درجے پر پہنچ جاتا ہے کہ جانور بھی اپنے بچوں پر جنسی تشدد نہیں کرتےجبکہ انسان اخلاقی و روحانی دیوالیہ پن کا شکار ہو جاتا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ زمانہ ء قدیم سے اب تک دنیا کی تمام اقوام میں چاہے وہ امریکی ہیں یا افریکی ،ایشیائی ہیں یا یورپی، بچوں کے ساتھ جنسی تشدد ہوتا رہا ہے ،اور خاص طور پر ان بچوں پر جنہیں اپنے ساتھ ہونے والے اس روئیے کا شعور بھی نہیں ہوتا ، یعنی 4 سے10 سا ل کے وہ بچے جو پیار محبت اور اس بد فعلی میں فرق نہیں جانتے ،اور یہ بچے عام طور پر ان افراد کےاس سفلی روئیے کا شکار ہوتے ہیں جو ان کے نگران ،محبت کرنے والے ،یا محافظ ہوتے ہیں ۔۔یعنی انکے اپنے گھر کے ملازم ،انکے قریبی انکل ،کززن ،وغیرہ۔

“جن کو سمجھتے تھے ہم ابر بہار
وہ بگولے کتنے گلشن کھا گئے”

بچپن کے اس معصومانہ دور میں وہ اس بات کو سمجھ نہیں پاتے ،لیکن بعد میں جب ہوش و حواس پکڑ تے ہیں تو انہیں پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک بہت گندی بات تھی ،اور پھر اس کے اثرات تا زندگی انکے ساتھ چلتے ہیں ،اور وہ کئی مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں۔

خود اعتمادی کی کمی کا شکار یہ لوگ بہت ڈرپوک ہوتے ہیں،متناسب شخصیت کے مالک ہونے کی بجائے تشدد پر آمادہ ہو جاتے ہیں ،اور احساس کمتری میں یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ شاید وہ اسی قابل تھے کہ انہیں اس سلوک کا نشانہ بنایا گیا ،یا اس سب میں انکا اپنا ہی کوئی قصور تھا۔وہ اس حقیقت ،اس گناہ اور شرمندگی کو ،بھلانے کے لئے نشہ میں گم رہنا چاہتے ہیں ،وہ دوسروں پر اعتماد نہیں کرتے اور بعض اوقات تو اپنے آپ کو بھی قبول نہیں کر پا تے ۔یوں انکی شخصیت تباہ ہو کر معاشرے پر ایک بڑا بوجھ ہوتی ہے۔

یہ کہانی ایک ایسے جوڑے کی جن کی ازدوجی زندگی مشکلات کا شکارہے۔ دونوں اپنی دوریوں کو ختم کرنے کیلیے لیک ہاوس جاتا ہے۔ راستے میں جاتے ہوئے وہ ایک کتے کو دیکھتے ہیں جو بھوکا ہے۔ اور گوشت کو کہا رہا ہے۔ جسے وہ نظر انداز کر کے چلے جاتے ہیں۔ مائک نے کچھ اروٹک ایڈوینچر کی تیاری کر کے رکھی ہوتی ہے۔ jessie کچھ گوشت کے ٹکڑے کاٹ کر لے جاتی ہے اور اس کتے کو آواز دیتی جو آ کر اس گوشت کو کہاتا ہے اسی دوران مائک اسے آواز دیتا ہے اور وہ اندر چلی جاتی ہے۔ اسی دوران وہ دروازہ کھلا چھوڑ دیتی ہے۔ مائک jessie کو باندھ دیتا ہے جو آپ پوسٹر میں دیکھ سکتے ہیں۔ اسی دوران دونوں میں لڑائی ہوتی ہے اور مائک ہارٹ اٹیک سے مر جاتا ہے۔ اور ایک سنسنی خیز کہانی کا آغاز ہوتا ہے۔

صبح سے دوپہر ہو جاتی ہے۔ وہ بے بس ہے بھوک پیاس کی وجہ سے اس کی حالت زار ہو جاتی ہے۔ اور اسی کشمکش میں اس کا دماغ مثبت اور منفی شخصیات کو جنم دیتا ہے۔ جو اس کی مثنت اور منفی سوچ ہے جسے ہدایت کار نے نہایت خوبصورتی سے کرداروں میں ڈھال دیا۔ مثبت سوچ کو وہ خود جے کردار اور منفی سوچ کو وہ مائک کے روپ میں دیکھتی ہے۔

دوپہر کا وقت ہوتا ہے، وہ سوچتی ہے کس کو بلائے لیکن کوئی مو جود نہی مائک اسے بتاتا ہے۔ کہ جب وہ یہاں آئے تو اس نے سب کو چھٹی دی ہے۔ مالی، نوکر، پڑوسی، بچے سب ویکینڈ ختم ہونے سے پہلے نہیں آسکتے۔ چیخنے سے اس کی اپنی توانائی ہی کم ہوتی جارہی تھی اور وہیں جب رات کا اندھیرا چھانے لگتا ہے تو ایک وقت آیا جب اس کے ساتھ وہ ہوا جو چونکا دینے والا تھا۔

اسی دوران وہ کتا آتا ہے جو بہت بھو کا تھا وہ اس کے شوہر کو کھانے لگتا ہے۔ یہ سین نہایت تکلیف دے ہے۔ موت اور زندگی کی جنگ اسے ماضی کی تاریخ یادوں تک لے جاتی ہے۔ جہاں اس کا دردناک ماضی آپ کو افسرہ کر دیتا ہے اس کے باپ کا اس کے ساتھ رویہ اس کے بچپن کے واقعات نہایت عمدگی سے پیش کیے گئے ہیں۔ اس کا کرداروں سے مکالمہ نہایت شاندار ہے۔ بچوں سے جنسی تشدد اور اس کے منفی اثرات کو بہت عمدگی سے دیکھایا گیا ہے۔

یہ ایک بڑا مسئلہ ہے مگر بد قسمتی سے ہمارے ملک میں اس کی طرف بہت کم دھیان دیا جاتا ہے ،اور اکثر تو اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے باشندے ہیں، جہاں سب کچھ اسلامی قوانین کے مطابق ہے اور ہمارا معاشرہ ایسے گندے رویے سے پاک ہے۔یہی وجہ ہے کہ ملکی سطح پر نہ قانونی سطح پر،عام لوگوں کی اس طرف توجہ کم دلائی گئی ہے۔ یہاں تک کہ طبی شعبے میں بھی یہ مسئلہ کچھ خاص اہمیت نہیں رکھتا،اکثراس سفلی رویے کے شکار افراد شرمندگی اور بد نامی کے باعث گھٹ گھٹ کر زندگی گزار دیتے ہیں۔

اس گھنائونے فعل سے بچائو کیلئے کئی تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں۔مثلاً ،بچوں کو شروع ہی سے اس مسئلہ کا کچھ نہ کچھ شعور دینا چاہیئے۔سکول کی سطح پر بچوں کو اس بات سے آگاہی دی جائے۔ اس فلم کا ایک ڈائلاگ نہایت خوبصورت ہے 
” اکثر اوقات آپ کے مددگار( مسیحا) ہی حیوان بن جاتے ہیں اور آپ کو نوچ ڈالتے ہیں”۔

احسن رسول ہاشمی

اپنا تبصرہ بھیجیں