بریکنگ بیڈ سیزن ریویو

ضرورت ایجاد کی ماں ھے۔۔ ۔اچھا ؟ لیکن ضرورت برائیوں کی ماں بھی ھے۔ منی لانڈرنگ کا شوق رکھنے والے بھی متوجہ ھوں اور کیمسٹری کے شعبے سے منسلک اساتذہ اور طلباء بھی آگے آ جائیں۔ بریکنگ بیڈ اپنے ویورز کو دھیرے دھیرے توڑتا ھوا بری طرح توڑ دیتا ھے، کئی کردار بھی ٹوٹتے اور بنتے ھیں، جو ٹوٹتے ھیں بری طرح ٹوٹتے ھیں۔ اسی لیے یہ بریکنگ بیڈ ھے۔ جب آپ کو بتا دیا جائے کہ ایک سال بعد آپ نے مر جانا ھے، کینسر کی جان لیوا بیماری سے آپ کی فرار مشکل ھے تو آپ کیا کریں گے؟ وہ اپنے مرنے کے بعد اپنے خاندان کو سب کچھ دینا چاھتا تھا تاکہ وہ کسی سے مانگ نہ سکیں، انہیں کوئی خیرات نہ دے۔ وہ خود بھی خیرات کی رقم سے نفرت کرتا تھا۔ ایسی رقم تو اس نے اپنے کینسر کے علاج کے لیے بھی نیہں لی بلکہ ٹھکرا دی۔ ایک ٹیچر، ایک سٹوڈنٹ اور انسانی نفسیات کے اتار چڑھائو کی داستان۔ عام طور پر فلموں اور ڈراموں میں دکھایا جاتا ھے کہ لوگ بڑی تگ و دو کر کے ملین ٹریلین ڈالرز کما لیتے ھیں اور پھر فلم ختم۔۔۔۔ اس میں دکھایا گیا ھے کہ چلیں آپ نے اتنی رقم حاصل کر لی، اب کیا کرنا ھے؟ اسے کہاں لگانا ھے اور کہاں نہیں۔ کہاں چھپانا ھے کہاں دکھانا ھے۔ تجسس سے بھرپور، ایکشن سے لیس ایک خوبصورت سیریز جس نے مجھے آخر تک جکڑے رکھا۔ دلچسپ بات یہ ھے کہ یہ سیریز مکمل ھوچکی ھے تو اس کا انجام دیکھنے کے لیے انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ کبھی کبھار ایسا بھی ھوتا ھے کہ آپ کے پاس بہت سا پیسہ ھوتا ھے لیکن آپ خوش نہیں ھوتے۔ آپ اندر سے ٹوٹ چکے ھوتے ھیں، پوری دنیا آپ کا ساتھ چھوڑ چکی ھوتی ھے۔ جس سے آپ کو بہت محبت ھوتی ھے، بار بار اس کا فون ملا کر اس کی آواز سننے کو ترستے ھیں۔ اور کبھی کبھار انجانے میں قتل ھوئے لوگوں کی روحیں آپ کا تعاقب کرتی ھیں۔ اربوں کھربوں کا پیسہ ایسی صورتحال میں آپ کو کیا دے سکتا ھے؟ کیمسٹری کے لوگوں کی خاص توجہ اس لیے درکار تھی کیونکہ شروع سے آخر تک یہ سیریز کیمیسٹری، کیمیکل، کیمیائی تعامل، تیزاب، گیسز وغیرہ کا ھی کھیل ھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے وائٹ بورڈ پر انسان میں موجود تمام کیمیکلز کی لسٹ تیار کی۔ انسان میں کاربن کتنی ھے، کیلشیم کتنا ھے، آخر کار انہوں نے انسان میں موجود ھر چیز کو فیصد میں لکھ دیا۔ لیکن وہ کہتا رھا کہ اب بھی کسی چیز کی کمی ھے۔ وہ چیز کیا ھے؟ روح۔۔۔۔۔! کانشیئس، ضمیر جیسی کوئی چیز۔۔۔۔۔ یہ کب ختم ھو جاتی ھے پتہ ھی نہیں چلتا۔ ایک نارمل عام زندگی گزارنے والا معمولی ٹھیک ٹھاک انسان سنگ دل، برا، بدکردار، قاتل، چور وغیرہ کیسے بن جاتا ھے، اس کا ضمیر، اس کی روح یہ چیزیں کہاں مر کھپ جاتی ھیں؟ کیا ضروریات انسان میں اتنے بڑے بدلائو لاتی ھیں۔ پھر تو ضرورت برائیوں کی ماں ھے۔

ذیشان ساجد

اپنا تبصرہ بھیجیں