برڈ باکس فلم کا ریویو

اس فلم پر ہو سکتا ہے تحریر لکھی گئی ہو لیکن آج میں اس کے چند اہم نکات پر لکھنا چاہتا ہوں۔ آج کل یہ فلم پوری دنیا میں زیِربحث ہے۔ اس فلم میں تنہائی، ڈر، قید، امید، آزادی اور ایمان کو بہت خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔ یہ فلم ایک ماسٹر پیس ہے۔ یہ فلم جوش ملر مین کے ناول ’برڈباکس پر مبنی ہے۔ جسے ڈائریکٹ کیا ہے سوزان بائرن نے جو ایک بہترین ڈائریکٹر ہیں۔

Movie: bird box
Genre: Drama, Mystery & Suspense, Science Fiction & Fantasy
Director: susanne bier

🌅 تنہائی کبھی نعمت ہے تو کبھی مصیبت۔ ادیبوں اور شاعروں نے تنہائی کو غنیمت سے تعبیر کیا ہے کیونکہ ہر وقت انہیں کوئی نہ کوئی خیال گھیرے رہتا ہے، لہٰذا تنہائی کہاں ہے؟ تنہائی کیا ہے ؟ اس بات کا دارومدار انسان کی سوچ پر ہے۔ بعض لوگ تنہائی کے لمحات ڈھونڈنے میں ساری زندگی صرف کرتے ہیں۔ تنہائی انسان کی آزادی چھین لیتی ہے۔ تنہائی تو رب کو بھی پسند نہی اسی لیے یہ جہان بنا ڈالا۔

🌅 ڈر ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جو انسان کو ایسے فیصلے لینے پر مجبور کر دیتی ہے جس کے بارے میں وہ تصور بھی نہی کر سکتا۔ اور اگر ڈر کے ساتھ قید بغل گیر ہو جائے تو انسان کا بچنا محال ہو جاتا ہے۔ مگر ہمیں نہیں پتا کہ ہم کس سوچ کے حامل ہو سکتے ہیں اور اس کے مطابق کتنا عمل کر سکتے ہیں۔ ہماری مجبوریاں ایسی ہیں۔ انسان کو قید کیا گیا ہے اسی لیے اللّٰہ کے رسولؐ کا ارشاد ہے کہ ” الدنیا سجن المومن ” دنیا مومن کا قید خانہ ہے.

🌅 اب میں آپ کو ایک چھوٹی سی بات بتاتا ہوں۔ جب ہمارا موازنہ شیطان اور فرشتوں سے کیا گیا ، تو ہم کچھ اور تھے. شیطان مختلف صورت میں رونما ہو سکتا ہے۔ جو صورت چاہے اختیار کرسکتا ہے ۔فرشتہ بھی ایسے ہی ہے۔ مگر اگر انسان ایسا نہ ہوتا تو اس کا میچ کیسے ہو سکتا تھا۔ لازم ہے کہ دنیا میں آنے سے پہلے انسان بھی ایسے ہی تھا ۔تبھی اس کو سبقتِ اعلی دی گئی ۔اس لیے جب زمین پر آئے تو ہم سے وہ صفت ہی چھین لی گئ۔ ہم ایک آزمائش میں ڈالے گئے۔ بندش میں ڈالے گئے ۔ہماری حدود و قیود متعین کی گئیں اور اس کے بدلے میں ہمیں ایک سوچ دی گئی کہ یہاں سے یہ مسئلہ حل کرکے نکلو، آگے تمہاری قوتیں بحال ہوجائیں گی۔

🌅 اس فلم کی کہانی کے دوران ہی چند اہم پہلوں کا ذکر بھی کروں گا یہ فلم باقی ہارر فلموں سے ہٹ کر ہے۔ نہایت سنسنی خیز جو آپ کو فلم کے پہلے سین سے اختتام تک چکڑے رکھے گی۔

🌅 فلم کی ابتدا ہوتی ہے میلوری (سانڈرا) سے جو دو بچوں کے ساتھ موجود ہے۔ اور ان کو انتباہ کرتی دیکھائی دیتی ہے۔ میلوری ایک مصور ہے اور اپنے کام سے جنون کی حد تک پیار کرتی ہے۔ وہ تنہائی پسند ہے دنیا سے لاتعلقی کا شکار ہے اس کے کام سے اس کی کیفیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ اس کی پینٹنگ جس پر کالا رنگ غالب ہے۔ جہاں تمام لوگ تنہاہ دیکھائے گئے ہیں جو حقیقت میں اس کے کردار کو ظاہر کرتی ہے۔ افسردگی اور شدید غم کے احساس کی وجہ سے وہ غصہ کا، نا امیدی کا، تھکان کا، تناؤ کا شکار ہے۔ وہ حاملہ ہے۔ اس کی بہن اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانے کو کہتی ہے۔ اس فلم میں میرا پسندیدہ سین جب وہ ہاسپٹل جاتیں ہیں اس کی بہن اور وہاں موجود لڑکی موبائل پر بات کرتے مسکرارہی ہیں اور دوسری جانب میلوری نیلا لباس پہنے تنہا افسردہ ہے۔ جو ہمارے معاشرے کی موجودہ حالت کا بہترین نقشہ ہے۔ کہ ہم اپنی زندگی میں اس قدر گم ہیں کہ ہمیں نہی پتا ہمارے ارد گرد کیا ہو رہا یے۔

واپسی پر وہ دیکھتی ہیں کہ لوگ خودکشی کر رہے ہیں۔ اسی دوران اس کی بہن بھی کسی مخلوق کو دیکھتی ہے اور خود گشی کرتی ہے۔ یہ منظر درد ناک ہے۔ نہی معلوم کہ روس سے شروع ہونے والے اس سلسلے کی کیا وجہ ہے جو امریکہ تک آن پہنچا۔ ان سے بچنے کا ایک طریقہ ہے کہ وہ اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ کر رکھیں۔ اسی دوران وہ ایک گھر میں پناہ لیتی ہے جہاں اس کے ساتھ دوسرے لوگ موجود ہیں۔ اب بات کرتے ہیں اس مخلوق کے بارے میں کہ وہ کیا ہیں۔

🌅 اس فلم میں ہی ایک تھوری پیش کی گئی ہے جہاں سیاہ فام لڑکا بتاتا ہے کہ یہ حساب کا دن ہےاو دنیا کا اختام ہونے کو ہے جہاں وہ زوروایسٹرک اور دوسرے مذاہب کی کہانیوں میں بتائے گئے ڈیمنز کا ذکر کرتا ہے۔ اور کہتا ہے کہ بے شک ان کی تشریع ہر مذہب میں مختلف ہے لیکن وہ ایک سے ہیں۔ Andy جو فلم کے میکپ آرٹسٹ ہیں انھوں نے اس مخلوق کی ایک تصویر انسٹاگرام پر شیئر کی ہے لیکن اسے فلم میں نہی دکھایا گیا جو سوزان بائرن کی عمدہ سوچ اور ڈائریکشن کا منہ بوتا ثبوت ہے۔

🌅 خوراک کی قلت کی وجہ سے وہ ایک سٹور پر جاتے ہیں جہاں انھیں پنجرے میں قید تین پرندے ملتے ہیں۔ جو فلم کی کہانی کی وضاحت بھی کرتے ہیں۔ کہ حقیقت میں یہ پرندے نہ صرف دوسری مخلوق کو محسوس کر سکتے ہیں بلکہ قید، آزادی اور امید کو بھی ظاہر کرتے ہیں جو فلم میں کرداروں کو پیش کرتے ہیں۔ میلوری اور دو بچوں کو جو قید میں ہیں اور ان کی آزادی کی امید ایک ایسا جہاں ہے جس کے بارے میں وہ نہی جانتے۔ اسی گھر میں ایک ایسا شخص بھی موجود ہے جس پر اس مخلوق کا کوئی اثر نہی وہ اس مخلوق کو دیکھ سکتا ہے۔ پانچ سال یوں ہی گزر جاتے ہیں۔ اب میلوری اور دو بچے زندہ ہیں۔ میلوری کو ریڈیو پر پتا چلتا ہے۔ کہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں وہ محفوظ ہیں۔ اور اس تک پہچنے کیلیے اسے دریا کا سہارا لینا ہو گا۔ وہ بچوں کے ساتھ اس منزل کی طرف کامزن ہوتی ہے۔

🌅 اب اگر بات کی جائے اس مقام جس کی جستجو میں نکلے ہیں۔ تو کہیں نہ کہیں اسے جنت کا روپ دیا گیا ہے۔ اور جیسے میں نے اوپر بیان کیا کہ یہ دنیا قید ہے۔ یہاں یہ دکھا گیا ہےآپ کا خواب، منزل اور مقصد یہی ہے اور آنکھوں پر پٹی باندھ کر اس رستے پر چلنا ہے۔ بنا کسی چیز کو چھوئے دیکھے اور محسوس کیے۔خدا پر بھروسا کرتے ہوئے جنت تک رسائی ہو سکتی ہے بس۔ 
اور وہ مخلوق بھی انسان کے ڈر،تنہائی اور بچھڑے پیاروں کو جانتی ہے۔اور صرف انہی لوگوں کو خودکشی کرنے پر اکساتی ہے جو کسی درد یا تنہائی کا شکار ہوں۔ اوپر میں نے ذکر کیا تھا کہ ایک ایسا شخص بھی موجود ہوتا ہے جو اس مخلوق کو دیکھ سکتا ہے۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیوں خود کشی نہی کرتا۔ شخص کا دماغی دوازن درست نہی جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ مخلوق صرف اچھے لوگوں کو مار رہی ہے۔ اور یہی اس دنیا کا اصول بھی ہے آپ اپنے ارد گرد ہر آوباش قاتل کو آزاد پائیں گیں لیکن اچھا انسان درد اور تنہائی کا شکار ہو گا۔ وہ مخلوق جنگل میں بچوں کو پکارتی ہے کہ اپنی پٹی اتار دو اور وہ ایسا کرنا بھی چاہتے ہیں اسی وقت میلوری کو ٹام کی بات یاد آتی ہے کہ اس درد بھری دنیا میں ایک مقام ایسا ہے جو ان تکلیفوں سے آزاد ہے جہاں وہ کھیل سکتے ہیں درختوں پر چھڑ سکتے ہیں میلوری بچوں کو یہی بات بتاتی ہے اور وہ اس کی طرف لوٹ آتے ہیں۔

🌅 وہ منظر کیسا ہو گا جب آپ موت سے انکار کر رہے ہوں لیکن آپ کا کوئی پیارا آپ کو آواز دے رہا ہو آپ اس کے پاس جانا بھی چاہتے ہیں لیکن جا نہی پاتے کہ آپ کا پیارا ہی آپ کی موت کا سبب بن جائے گا۔ پیار اگر انسان کو موت تک لے جاتا ہے تو زندگی کی نگری میں بھی لے آتا ہے۔ جہاں آپ کے بھچڑے آپ کو پکارتے ہیں وہی آپ کے ساتھ موجود لوگ آپ کو زندہ رہنے کی تڑپ مہیا کرتے ہیں۔ اس فلم میں دیکھایا گیا ہے کہ کبھی اندھا عقیدہ ہی انسان کی زندگی کا معجب بنتا ہے۔ 
ہمیں زندگی کے بارے میں کم اور موت کے بارے میں زیادہ معلومات دی جاتی ہیں موت، گناہ، برائی، عبادت کا حساب یہی چیزیں بتائیں جاتی ہیں۔ ان امتحانات کو پار کر آپ کو ایسی دنیا ملے گی جہاں آپ کی ہر خواہش بر آئے گی۔ جہاں کسی قید کا ڈر نہی ہو گا۔ یہی سب اس فلم کے اختتام میں بھی دیکھایا گیا ہے۔

🌅 ایک سوال جو ہمیشہ میں خود سے کرتا ہوں کہ جو شخص خدا کی رضا کی خاطر فنا ہو جائے اسے پھر بھی بدلے میں شراب، حور، باغات اور محلوں کی آرزو رہتی ہے۔

احسن رسول ہاشمی

اپنا تبصرہ بھیجیں