ایک انوکھی فلم کا ریویو

کہتے ہیں انسان کی روح قبض کر لی جائے تو وہ مر جاتا ہے لیکن اگر کسی انسان کی سوچ قبض کر لی جائے تو وہ جیتے جی مر جاتا ہے- یہ ایسی ہی ایک سیریز ہے جس میں ہر انسان کے دماغ کو manipulate کیا جارہا ہے- ممکن ہے یہ تحریر بهی ایسی ہی ایک سازش ہو …. سو آگے اپنی ذمہ داری پر پڑهئے گا-

Our minds concoct all sorts of fantasies when we don’t want to believe something.

سوچیں اگر کوئی انسان ہمارے ذہن پر قابض ہو کر ہمیں اپنے اشاروں پر چلانا شروع کر دے اور ایسا کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ ہمارا مسیحا ہو جس کے پاس ہم شفا کے لئے گئے ہوں اور اس پر اندها یقین بهی رکهتے ہوں تو کیا ہو؟؟؟ اور کیا ہو جو وہ مسیحا آدم خور بهی ہو؟؟؟؟

Cannibalism was standard practice among our ancestors. The missing link is only missing because we ate him.

کہانی ہے ڈاکٹر Hannibal Lecter کی جو ایک جانا مانا سائکاٹرسٹ ہے لیکن کوئی نہیں جانتا کہ وہ کینیبل بهی ہے… عام لوگوں کی نسبت اس کی سونگهنے کی حس کئی گنا تیز ہے جس کے بل بوتے پر وہ ہر خطرے کو وقت سے پہلے جان لیتا ہے… جس کے لئے زندگی میں ذائقہ ہی سب کچھ ہے- اس کے لئے اچها کهانا پکانا ، کهانا اور کهلانا ہی زندگی ہے اور کهانے میں من پسند ذائقے کو پانے کے لئے وہ کیا کیا جتن کرتا ہے یہی کچھ اس سیریز میں دکهایا گیا ہے… کیونکہ جسے وہ چاہتا ہے اسے وہ کهاتا ہے اور جسے وہ کهاتا ہے اسے وہ چاہتا ہے-

Taste is housed in parts of the mind that perceive pity. Pity has no place at the table.

لیکن اس سب کے باوجود وہ خود کو تنہا محسوس کرتا ہے… اسے تلاش ہے کسی ہمدرد ، ہمزاد اور ہمراز دوست کی جو بالکل اس کی طرح سوچتا ہو اور اس کے احساسات اور جذبات کو سمجھ سکتا ہو-

The most beautiful quality of a true friendship is to understand and be understood with absolute clarity.

کہانی ہے ایک ایف بی آئی ایجنٹ Will Graham کی جسے کسی مجرم کے دماغ سے سوچنے کی خداداد صلاحیتوں سے نوازا گیا ہے ….دراصل وہ خود کو ان کی جگہ پر رکھ کر سوچتا ہے…. وہ ذہنی طور پر مجرموں کے اندر سما جاتا ہے اور ان کے وہ دردناک حالات جان لیتا ہے جو انہیں سیریل کلر بنانے کا محرک بنے…. یہی وجہ ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بهی وہ ہر سیریل کلر سے ہمدردی رکهتا ہے… وہ کرائم سین پر جا کر اپنی چهٹی حس اور ثبوتوں کی مدد سے سیریل کلرز کے طریقہ واردات اور قتل کی وجوہات کو پل بهر میں جان جاتا ہے… لیکن empathizing کی یہ صلاحیت اس کے لئے تب وبال جان بن جاتی ہے جب ڈاکٹر لیکٹر اس میں دلچسپی لینے لگتا ہے-

There’s a common emotion we all recognize and not yet named: the happy anticipation of being able to feel contempt.

یہ سیریز ہے ہینیبل لیکٹر اور ول گراہم کے ناقابل فہم تعلق کے بارے میں… ہم جان ہی نہیں پاتے کہ ان کے درمیان تعلق کس نوعیت کا ہے…. دوستی کا تعلق ہے یا دشمنی کا ، محبت کا تعلق ہے یا نفرت کا… کبهی وہ ایک دوسرے کی جان بچاتے نظر آتے ہیں اور کبهی ایک دوسرے کی جان کے درپے ہوتے ہیں… کبهی ساتھ چلتے ہوئے مخالف سوچ رہے ہوتے ہیں اور کبهی مخالف چلتے ہوئے ایک جیسا سوچ رہے ہوتے ہیں…. اگر وہ شکار اور شکاری کے تعلق میں بندهے ہیں تو کون شکار ہے اور کون شکاری؟؟؟ یہ کوئی نہیں بتا سکتا-

If God is looking down at you, don’t you want to be looking back at Him?

یہ سیریز ہے انسانی نفسیات کی اور طاقت کی ہوس کی… جب انسان طاقت کی چاہ میں حد سے گزر جاتا ہے اور خود کو خدا تصور کرنے لگتا ہے… جب وہ خدا کی مخلوق کی زہن سازی کر کے انہیں آزاد چهوڑ دیتا ہے یہ جاننے کے لئے کہ اب وہ معاشرے میں کیا کردار ادا کریں گے…. جب وہ گناہگار کو گناہ پر اکساتا ہے اور دوسرے انسان کو کہتا ہے کہ اسے گناہ کی پاداش میں جان سے مار دو… جب ایک طرف تو وہ کسی انسان کو اپنے ہی چہرے کا گوشت کاٹ کر کتوں کو کهلانے پر آمادہ کرتا ہے تو دوسری طرف کسی انسان کو اس کا ہی گوشت کهلا رہا ہوتا ہے اور وہ انسان خود کو مزے سے کهاتے ہوئے سوچتا رہ جاتا ہے کہ اگر میں اتنا لذیذ ہوں تو مجهے کهانے والا خود کتنا ذائقے دار ہوگا…. ظاہر ہے ہم وہی تو ہوتے ہیں جو ہم کهاتے ہیں-

What kind of victim forgives the killer at the moment of death?

یہ سیریز ہے انسان کے درجہ بدرجہ شکاری بننے اور شکاری بن کر سوچنے کے بارے میں. .. کہتے ہیں جب کوئی قاتل کسی کو قتل کرتا ہے تو مقتول کی ذات کا کوئی عنصر اس قاتل کی ذات میں منتقل ہو جاتا ہے ….اب یہ عنصر یا تو اسے مزید طاقتور بنا دیتا ہے یا پهر احساس گناہ میں مبتلا کر دیتا ہے-

Human emotions are a gift from our animal ancestors. Cruelty is a gift humanity has given itself.

اور کہتے تو یہ بهی ہیں کہ قاتل کو اپنے مقتول کا قرض چکانا پڑتا ہے… کیا واقعی ایسا ہوتا ہے؟؟؟

Upon taking his own life, Socrates offered a rooster to the God of healing, Asclepius, to pay his debt.

شاید ہاں تبهی تو ہر شکاری یہ قرض چکا کر اپنے شکار کو عزت بخش رہا تها ….. کبهی مقتول کو کسی خوبصورت پینٹنگ میں ڈهال کر تو کبهی اسے کسی ساز میں ڈهال کر اس پر کوئی دلکش دهن بجا کر، کبهی کسی میورال mural یا ٹوٹم کی شکل دے کر تو کبهی کسی ہرے بهرے پهولوں سے لدے درخت یا جگنو کی شکل دے کر ، کبهی اپنے شکار کو ہضم کر کے اور کبهی اس کا مجسمہ بنا کر…. تو کیا واقعی کوئی قتل قتلِ ناحق نہیں ہوتا کہ اس کا کوئی نہ کوئی محرک ضرور ہوتا ہے؟؟؟

Killing must feel good to God, too. He does it all the time, and are we not created in his image?

یہ سیریز ہے انسان کے ازلی تجسس پر مبنی… آگے کیا ہوگا کا تجسس …. ایک شکاری کا اپنے شکار کے فرار کے تمام راستے بند کر کے یہ جاننے کا تجسس کہ اب وہ اپنے بچاو کے لئے کیا کرے گا…. ایک شکار کا تجسس کہ اب شکاری کون سے نئے طریقے سے اس پر حملہ آور ہوگا… اور شکار اور شکاری کے کهیل کا تماشا دیکهنے والے کا تجسس کہ کون جیتے گا اور کون ہارے گا-

No one can be fully aware of another human being unless we love them.

یہ سیریز احاطہ کرتی ہے شکار اور شکاری کے مابین تعلق کا… جس میں شکاری کو اپنے شکار سے محبت تهی تبهی اس کا شکار کر رہا تها….اور شکار ہونے والے کو اپنے شکاری سے انسیت تهی تبهی وہ بخوشی اس کے دام میں آجاتا…. شاید ایک دوسرے کو سمجهنے کے لئے یہ محبت اور انسیت ضروری تهی-

Before we begin, you must all be warned. Nothing here is vegetarian. Bon appetit.

یہ سیریز آپ کو نت نئے کانٹینینٹل کهانوں سے متعارف کروائے گی… ان کے بنانے کے مختلف طریقے اور انہیں پیش کرنے کے دلفریب انداز سکهائے گی… کہ بهوک ہی تو انسان کی ہمیشہ سے ضرورت رہی ہے …. یہ بهوک ہی تو ہے جو انسان کو جانور بناتے دیر نہیں لگاتی لیکن سنا ہے جانور کا پیٹ بهی اگر بهرا ہو تو وہ شکار نہیں کرتا …. اور یہاں تو بهرے پیٹ شکاری گهوم رہے تهے… تو وہ کونسی نفسیاتی گهتیاں تهیں جو ان کی بهوک ختم ہونے کی بجائے بڑهت ہی جا رہی تهی؟؟؟


Love and death are the great hinges on which all human sympathies turn. What we do for ourselves dies with us. What we do for others lives beyond us.

اس سیریز کے پہلے سیزن میں بتایا گیا کہ کس طرح معاشرہ ، ایمان، یقین، خوف، خاندان ، رشتے ، یادیں ، دوستی ، دشمنی ، نفرت، محبت، شہرت ، تنہائی جیسے عوامل انسان کی نفسیات پر اثرانداز ہوتے ہیں… اور اسے انسان سے جانور اور جانور سے انسان بنا رہے ہوتے ہیں- کبهی انسان ان کے پیچهے بهاگ رہا ہوتا ہے اور کبهی ان سے دور بهاگ رہا ہوتا ہے….

Must I denounce myself as a monster while you still refuse to see the one growing inside you?

دوسرے سیزن میں بتایا گیا کہ جنون کی راہ پر چلنے والا انسان کس حد تک جا سکتا ہے…. سر پر طاقت کا نشہ سوار ہو جائے یا بدلے کی دهن ، انسان اپنے پرائے کی تمیز بهول جاتا ہے… اندها اعتماد ٹوٹے تو ہر رشتے سے اعتبار اٹھ جاتا ہے… اس سیزن میں شکار شکاری بن کر سوچ رہا تها اور شکاری کا شکار ہو رہا تها …. تو کیا واقعی شکاری شکار ہو گیا یا یہ بهی شکاری کی کوئی چال تهی؟؟؟

Here we are, bunch of psychopaths helping each other out.

تیسرا سیزن میں نے ابهی مکمل نہیں دیکها لیکن جتنا دیکها یہی جانا کہ چوہے بلی کا کهیل شروع ہو چکا ہے… سارے چوہے مل کر بلی کی تلاش میں ہیں اور بلی چوہوں سے چهپتی پهر رہی ہے یا شاید چهپ کر گهات لگائے بیٹهی ہے … اور مجهے تجسس ہے کہ ان کا انجام کیا ہوگا کیونکہ چوہے موت سے بےخوف ہو چکے ہیں-

If you followed the urges you kept down for so long, cultivated them as the inspirations they are, you would have become someone other than yourself.

یہ ایسی سیریز ہے کہ جسے دیکهنے کا مشورہ میں ہرگز نہیں دوں گی …. اگر کوئی دیکهنا چاہے تو اپنی ذمہ داری پر دیکهے کیونکہ ممکن ہے کہ ڈاکٹر ہینیل لیکٹر کی شاندار اور نفیس شخصیت ، کهانے پینے اور پہناوے میں جهلکتی نفاست اور نزاکت، چال ڈهال میں دکهائی دیتا غرور اور تمکنت ، دلفریب اور سحر طاری کرتا انداز بیاں ، سوچنے پر مجبور کرتے انتہائی عمدہ ڈائیلاگز اور ان کی پرتکلف اور لذیذ کهانوں کی دعوت کے اہتمام آپ کی نفسیات پر اثرانداز ہو کر آپ کے دماغ پر حاوی ہو جائیں اور آپ کو پتا بهی نہ چلے کہ آپ کیا سے کیا بن گئے-

Perception’s a tool that’s pointed on both ends

اور ممکن تو یہ بهی ہے کہ ول گراہم کی بےبسی اور لاچاری دیکھ کر آپ کا انسانیت سے بهروسہ ہی اٹھ جائے… آپ کو اس پر اتنا ترس آئے کہ آپ اسے بچانے کے لئے شکاری کے انداز میں ہی سوچنے لگ جائیں-

A life without regret would be no life at all.

ویسے سنا ہے دیکھ کر پچهتانا ، نہ دیکھ کر پچهتانے سے بہتر ہے-

Everybody decides their own versions of the truth.

انتباہ: نفسیاتی مسائل کا شکار اور کمزور دل افراد اس سیریز سے دور رہیں… اس سیریز میں بہت سے دل و دماغ ہلا دینے والے ڈسٹربنگ سینز اور خون خرابہ موجود ہے- میری تو مجبوری تهی دیکهنا کہ مونچهوں والی ایڈمن کو انکار نہیں کر سکتی تهی ہنہ-

امربیل
This is my design.

اپنا تبصرہ بھیجیں