اٹیک چھبیس گیارہ فلم

یہ دور کیمرے کا دور ہے ۔ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ جو دکھایا جاتا ہے ہم اسے ہی سچ مان رہے ہوتے ہیں۔ ہم میں سے اکثر اس بات کا اعتراف کریں گے کہ جب بھی پردۂ سکرین پر کوئی ایسا جذباتی منظر دکھایا ، کوئی جذباتی کہانی دکھائی جاتی ہے تو ہماری ساری ہمدردیاں مظلوم کے ساتھ ہوتی ہیں اور اس وقت ہم اس کے مذہب ، رنگ و نسل اور قومیت کو یکسر فراموش کر دیتےہیں۔

نانا پاٹیکر کا میں پرستار ہوں ، اس کے ڈائیلاگز اور ان کو ادا کرنے کا ایک مخصوص انداز مجھے بہت من بھاتا ہے۔ نانا کی تقریبا ساری مووی دیکھی ہوئی ہیں چند ایک رہ گئی تھیں جن میں سے ایک the attacks of 26/11 تھی۔ نانا کی وجہ سے مووی میں جان ہے ۔ بالخصوص جو آخر پر نانا ایک بچ جانے والے دہشت گرد سے مکالمہ کرتا ہے قرآن کریم اور جہاد کے حوالے سے وہ ایک اچھا اور عمدہ مکالمہ ہے ۔

مگر اس میں جو کراچی کا نام ڈالا گیا ہے اور ممبئی حملوں کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے ، کراچی کا نام لے کر پاکستان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اسے دیکھتے ہوئے مجھے وہ پرانے کالمز اور تحریریں پڑھی ہوئی یاد آ گئی جن میں ثبوتوں کے ساتھ یہ ثابت کیا گیا ہے کہ یہ سارا انڈیا کا اپنا ہی پلان تھا ۔ جس میں را ، موساد اور سی آئی اے کا مشترکہ پلان تھا۔ منیر احمد بلوچ صاحب نے تو اس موضوع پر درجنوں کالمز لکھ رکھے ہیں ، دنیا نیوز کی آر کائیو میں جا کر تفصیلا پڑھے جا سکتے ہیں ۔ گذشتہ سال کسی یہودی ڈیوڈ الیاس کی کتاب کا تذکرہ اوریا مقبول جان نے اپنے ایک کالم میں کیا تھا۔

ایسی موویز خود بھی دیکھنی چاہیں اور اپنے متعلقین اور ماتحتین کو دکھانی چاہییں کیونکہ ایسی موویز دیکھنے سے مظلوم کا دکھ سمجھنے کو مدد ملتی ہے دل نرم ہوتا ہے اور مستزاد ، کسی بھی رنگ نسل اور مذہب کے خون آشام کی حمایت کرنے سے دستبرداری کی تربیت ملتی ہے ۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ ہی اپنے آپ کو well equipped بھی رکھنا چاہیے کہ کہیں لاشعوری طور پر دشمن اپنے پراپیگنڈہ سے آپ کے ذہنوں کو مفلوج تو نہیں کر رہا ، کہیں انجانے میں آپ اس کی سوچ کے شکار تو نہیں ہو رہے ۔

آج چھٹی تھی دن سارا اسی میں گزر گیا مووی دیکھی وہ پرانے کالمز اور تحریریں کھنگالیں، اگر ایڈمنز اجازت دیں گے تو ان کالمز کے لنک کمنٹ میں پوسٹ کر دوں گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں